Sunday, 11 December 2016

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں
کیا جانیے کس وقت وہ نظارہ فرمانی کریں
ہاں ہاں دکھائیں گے ضرور ہم وحشت دل کا وفور
پہلے یہ شہر و دشت و در تکمیلِ ویرانی کریں
اے عاشقاں، اے عاشقاں، آیا ہے امرِ ناگہاں
جو لوگ ہیں نظارہ جو وہ مشق حیرانی کریں
وہ شمع ہے در طاقِ دل روشن ہیں سب آفاقِ دل
افتادگانِ خاک اٹھو افلاک گردانی کریں
اک ناصحانہ عرض ہے دریاؤں پر یہ فرض ہے
دل کی طرح ہر لہر میں تجدیدِ طغیانی کریں
ایسے گھروں میں اہلِ دل رہتے نہیں ہیں مستقل
تبدیل یہ دیوار و در اسلوبِ ویرانی کریں

احمد جاوید

No comments:

Post a Comment