Friday, 16 December 2016

ہماری زندگی سب کی گھٹائی جا رہی ہے

ہماری زندگی سب کی گھٹائی جا رہی ہے
دوا کے نام پہ مٹی کھلائی جا رہی ہے
سنو! یہ کس لیے اجلت میں مر رہے ہیں لوگ
یہ کائنات دوبارہ بنائی جا رہی ہے؟
یہ کیا نظام ہے جس میں حرام زادوں کو
حلال زادوں کے آدھی کمائی جا رہی ہے
وہ سچ میں ہوتا تو ردِ عمل دکھا دیتا
وہ جس کے ہاتھوں سے اسکی خدائی جا رہی ہے
یہیں پہ لوگ شرابوں سے بھی نہا رہے ہیں
بدن کو بیچ کے روٹی بھی کھائی جا رہی ہے
ہماری قبر پہ قبضہ جما رہا ہے کوئی
ہمارے نام کی تختی ہٹائی جا رہی ہے

سلیم احمد

No comments:

Post a Comment