ہماری زندگی سب کی گھٹائی جا رہی ہے
دوا کے نام پہ مٹی کھلائی جا رہی ہے
سنو! یہ کس لیے اجلت میں مر رہے ہیں لوگ
یہ کائنات دوبارہ بنائی جا رہی ہے؟
یہ کیا نظام ہے جس میں حرام زادوں کو
وہ سچ میں ہوتا تو ردِ عمل دکھا دیتا
وہ جس کے ہاتھوں سے اسکی خدائی جا رہی ہے
یہیں پہ لوگ شرابوں سے بھی نہا رہے ہیں
بدن کو بیچ کے روٹی بھی کھائی جا رہی ہے
ہماری قبر پہ قبضہ جما رہا ہے کوئی
ہمارے نام کی تختی ہٹائی جا رہی ہے
سلیم احمد
No comments:
Post a Comment