دل جا رہا ہے ہاتھ سے، ہاتھ آ رہا ہے کیا؟
سمجھا ہے دل نے کیا مجھے، سمجھا رہا ہے کیا
حدِ نظر سے دور نظر آ رہا ہے کیا
دل تجھ سے بے حجاب ہوا جا رہا ہے کیا
تھا شرط جس کی یاد میں ہر شے کو بھولنا
میں نے ذہینؔ جس پہ لٹائی تھی زندگی
وہ میری زندگی ہی بنا جا رہا ہے کیا
ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی
No comments:
Post a Comment