Friday, 16 December 2016

دل جا رہا ہے ہاتھ سے ہاتھ آ رہا ہے کیا

دل جا رہا ہے ہاتھ سے، ہاتھ آ رہا ہے کیا؟
سمجھا ہے دل نے کیا مجھے، سمجھا رہا ہے کیا
حدِ نظر سے دور نظر آ رہا ہے کیا
دل تجھ سے بے حجاب ہوا جا رہا ہے کیا
تھا شرط جس کی یاد میں ہر شے کو بھولنا
ہر شے کی یاد سے وہی یاد آ رہا ہے کیا
میں نے ذہینؔ جس پہ لٹائی تھی زندگی
وہ میری زندگی ہی بنا جا رہا ہے کیا

ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی

No comments:

Post a Comment