Tuesday, 11 October 2022

دیکھ یوں روٹھ کر نہیں جاتے

 دیکھ یوں روٹھ کر نہیں جاتے

باغ سے بے ثمر نہیں جاتے

بات کو کر رہے ہیں ختم یہیں

تیری اوقات پر نہیں جاتے

یعنی کہ لوگ اب جدا ہو کر

زندہ رہتے ہیں مر نہیں جاتے

اپنی آوارگی میں رہتے ہیں

تیرے عشاق گھر نہیں جاتے

کوچ کر جائیں گر پرندے تو

ان کے پیچھے شجر نہیں جاتے

تیرے کوچے کی سمت پاؤں اٹھے

جب بھی سوچا ادھر نہیں جاتے


یاسر گیلانی

No comments:

Post a Comment