Tuesday, 11 October 2022

اپنی گاگر سے مت نکال مجھے

 اپنی گاگر سے مت نکال مجھے

اس سمندر سے مت نکال مجھے

دل کے اندر قیام ہے میرا

صرف باہر سے مت نکال مجھے

پیار کرتی ہے مجھ سے ہیروئن

یار! پِکچر سے مت نکال مجھے

غم کا موتی ہوں، دل میں رہتا ہوں

گہرے ساگر سے مت نکال مجھے

میں تِرے کام کی خبر ہوں، مگر

نیوز پیپر سے مت نکال مجھے

کوئی گولی نہیں ہوں، کانٹا ہوں

نوکِ خنجر سے مت نکال مجھے

جھونپڑی، نہر، پیڑ اور پنچھی

ایسے منظر سے مت نکال مجھے


صابر آفاق

No comments:

Post a Comment