Saturday, 19 June 2021

روز اس کو منانا پڑتا ہے

 روز اس کو منانا پڑتا ہے

یعنی خود کو گِرانا پڑتا ہے

بات وہ بے تُکی سی کرتی ہے

اور مجھے مُسکرانا پڑتا ہے

گو کہ ہم ساتھ ہیں مگر اپنے

درمیاں اک زمانہ پڑتا ہے

میری جاں لوگ چھوڑ جاتے ہیں

میری جاں دل لگانا پڑتا ہے

رات رو کر گزار لیتے ہیں

صبح پھر مُسکرانا پڑتا ہے


یاسر گیلانی

No comments:

Post a Comment