Sunday, 11 July 2021

خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا

 خوشبو کی طرح ملتا ہے، وعدہ نہیں کرتا

موسم کا پرندہ ہے، ٹھکانا نہیں کرتا

وہ عشق میں شعلوں کا طلبگار ہے لیکن

اس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا

وہ پچھلی محبت میں مِرے دل کا خسارہ

اسبابِ دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا

کرتا ہے ہر اک رنگ کی چڑیوں سے وہ باتیں

پہنائی میں دل کی کبھی اُترا نہیں کرتا

اس شہر میں جینے کی ادا سیکھ رہا ہوں

بیتے ہوئے کل پر یہ گزرا نہیں کرتا 


فرحت زاہد

No comments:

Post a Comment