دوسرا عشق مِری جان نہیں کر سکتا
یہ تِرا حافظ قرآن نہیں کر سکتا
ایسی حالت میں تِرے خواب سے لوٹا ہے یہ جسم
میں ابھی وصل کا سامان نہیں کر سکتا
دسترس میں ہے مِری کیف بھی کیفیت بھی
زخم بھر کر مجھے حیران نہیں کر سکتا
ان پہ غالب ہے کئی چہروں کے اشراک کا دین
تُو ان آنکھوں کو مسلمان نہیں کر سکتا
پہلی قسطوں میں تِری موت نہیں ہو سکتی
اپنے تھیٹر کو میں ویران نہیں کر سکتا
یہ مِرا آخری پتھر ہے تِری یاد میں دوست
اب میں پانی کو پریشان نہیں کر سکتا
ابراہیم حماد
No comments:
Post a Comment