راستے کے کبھی پتھر نہیں ہونے والے
ہم کسی کے لیے ٹھوکر نہیں ہونے والے
بل پہ پنجوں کے قد آور نہیں ہونے والے
وہ مِرے قد کے برابر نہیں ہونے والے
تجھ کو معیار بڑھانا تو پڑے گا دنیا
ہم یوں ہی تجھ کو میسر نہیں ہونے والے
میں ہوں آئینہ، مِری قدر کرو تم یارو
میرے ہمدرد یہ پتھر نہیں ہونے والے
ظالموں پر بھی خدا گر ہمیں قابو دے دے
ہم مگر پھر بھی ستمگر نہیں ہونے والے
خانقاہوں میں ذرا وقت گزارو طالب
تم صدف کے بنا گوہر نہیں ہونے والے
متین طالب
No comments:
Post a Comment