Sunday, 12 September 2021

راستے کے کبھی پتھر نہیں ہونے والے

 راستے کے کبھی پتھر نہیں ہونے والے

ہم کسی کے لیے ٹھوکر نہیں ہونے والے

بل پہ پنجوں کے قد آور نہیں ہونے والے

وہ مِرے قد کے برابر نہیں ہونے والے

تجھ کو معیار بڑھانا تو پڑے گا دنیا

ہم یوں ہی تجھ کو میسر نہیں ہونے والے

میں ہوں آئینہ، مِری قدر کرو تم یارو

میرے ہمدرد یہ پتھر نہیں ہونے والے

ظالموں پر بھی خدا گر ہمیں قابو دے دے

ہم‌ مگر پھر بھی ستمگر نہیں ہونے والے

خانقاہوں میں ذرا وقت گزارو طالب

تم صدف کے بنا گوہر نہیں ہونے والے


متین طالب

No comments:

Post a Comment