Sunday, 12 September 2021

گماں کے ساحل سمٹ رہے ہیں اور ان سے آگے طویل دکھ ہے

 طویل دُکھ ہے


گماں کے ساحل سمٹ رہے ہیں

اور ان سے آگے، طویل دُکھ ہے

طویل دُکھ کی گُھٹن میں ہے اک گھنا سمندر

ہے جس کے آگے

طویل صحرا

اٹا ہوا ہے یہ بے یقینی کی ریت سے جو الجھ رہی ہے

گماں کے ساحل کی الجھنوں سے

گھنے سمندر کا کھارا پانی نگل رہا ہے

وہ سب حوالے

دلیل تھے جو

ہماری ساری مشقتوں اور مسافتوں کی

ہے جس کے آگے طویل صحرا

مٹا رہا ہے نشاں ہمارے

مسافروں کو بتا رہا ہے

یہ حد ہے ساری سیاحتوں کی

مسافرو! تم گواہ رہنا

طویل صحرا مٹا رہا ہے

ہمارے ہونے کے سب حوالے

کہیں بریدہ بدن پڑے ہیں

کہیں وہ سارے گماں پڑے ہیں

جو کہہ رہے تھے کہ اس سے آگے جہاں ملے گا

پیاس اپنی بچا کے رکھنا کہ جام کتنے ہی منتظر ہیں

فریب تھا سب

گواہ رہنا

مسافرو! تم گواہ رہنا

میں اس سمندر کے راستے سے

گیا تھا آگے

میں اس سمندر کے کھارے پانی کو جانتا ہوں

یہ اک جزیرہ نگل گیا ہے

یہ سب جزیرے نگل رہا ہے

طویل صحرا، گھنا سمندر

یہ اپنی اپنی انا کی سرحد کے خار رستوں

کی گرد ہوتی مسافتوں میں کہیں ملیں تو

الم رسیدہ مسافروں کو

بدن چھپانے کو خاک دیں گے

یہ خشک ہونٹوں کو آب دیں گے

یہ چور ہیں جو چھپا رہے ہیں

نشاں ہماری مسافتوں کے

تو اس سمندر کے راستے میں گماں سے آگے کا اک جزیرہ

میں بے یقینی کی گرد ہوتی مسافتوں کا ہوں اک مسافر

کہاں ملیں گے، کہاں ملیں گے؟


محمد علی بخاری

No comments:

Post a Comment