Sunday, 12 September 2021

ہمارے ذہن میں کوئی نشاں نہ تھا پہلے

 ہمارے ذہن میں کوئی نشاں نہ تھا پہلے

تمہاری رہبری کا بھی گُماں نہ تھا پہلے

لڑی ہے حوصلوں کی جنگ ہم نے سورج سے

ہمارے سر پہ کوئی سائباں نہ تھا پہلے

تمام باغ میں دم گُھٹ رہا ہے پُھولوں کا

ہراس و خوف کا ایسا دُھواں نہ تھا پہلے

ہمارے کھیت میں اُگتی تھیں امن کی فصلیں

یہ کُشت و خون کا دریا رواں نہ تھا پہلے

شفق کو دیکھ کے چڑیاں اُداس ہیں ساری

لہو لہو تو کبھی آسماں نہ تھا پہلے

سُنا ہے اس نے فقیروں کی جھولیاں بھر دیں

امیرِ شہر تو یوں مہر باں نہ تھا پہلے

حریمِ ناز کے دیدار سے ہوا شاید

وگرنہ یوں مِرا دل شادماں نہ تھا پہلے


پرویز مانوس

No comments:

Post a Comment