Sunday, 13 February 2022

گیت بس بہانہ تھا درد گنگنانا تھا

 گیت بس بہانہ تھا،۔ درد گنگنانا تھا 

اشک پی کے جیتے تھے کیا عجب زمانہ تھا 

زرد زرد شامیں تھیں برف برف راتیں تھیں 

چار سُو اداسی تھی، ہم کو مسکرانا تھا 

لوگ کچھ شناسا تھے دُھند سے جو ابھرے تھے 

غمزدہ سی آنکھوں میں ان کہا فسانہ تھا

 برف پوش وادی کے دل میں ایک لاوا تھا 

آہ اور نالے تھے زخم کچھ پرانا تھا 

بے زباں صداؤں میں چیختی پکاریں تھیں 

بے حسوں کی بستی تھی سن رہا زمانہ تھا 

بلبلیں جو گاتی تھیں کرب تھا، سناتی تھیں 

گِھر گٸیں تھیں طوفاں میں دور ہر ٹھکانہ تھا 

رین میں اماوس کی سایہ تھا نہ ساتھی تھا 

اک چراغ روشن تھا، جگ کو جگمگانا تھا 

جل رہے تھے صحرا میں نخل سب پیاسے تھے 

بارشوں کی چاہت میں ہر شجر دِوانہ تھا 

پھر بہار آئے گی آس ہے حمیرا کی 

پھول اور کلیوں نے پھر چمن سجانا تھا 


حمیرا قریشی

No comments:

Post a Comment