Sunday, 13 February 2022

ایک سپیرا میری گلی میں آ نکلا کل شام

 سانپ، سپیرا اور میں


ایک سپیرا میری گلی میں آ نکلا کل شام

اس کی آنکھیں چمکیلی تھیں اور آنکھیں سنگین

لیکن رس میں بھیگے نغمے چھیڑ رہی تھی بین

نغمے جن میں جاگ رہے تھے دنیا کے آلام

اس کے گلے میں سانپ پڑا تھا جیسے کوئی ہار

اس نے گلے سے سانپ اتارا اور کہا کہ جھوم

مٹی چاٹ کے پیار سے بابو جی کے پاؤں چوم

سانپ نے مجھ کو جھوم کے چومنا چاہا جو اک بار

میں گھبرا کے پیچھے ہٹا اور میں نے کہا نادان

سانپ کہ پتھر توڑ کے رکھ دے جس کا زہری وار

سانپ کو کون سکھا سکتا ہے انسانوں سے پیار

اس کو نیکی اور بدی کی کیا ہو گی پہچان

ہنس کے سپیرا بولا مجھ سے ہو گئی بھول

تم اک دوجے کے گلے پر رکھتے ہو تلوار

تم شہروں کے باسی کیا سمجھو گے کیا ہے پیار

میرے لیے یہ سانپ ہیں میرے سندر بن کے پھول

ماتھے پر یہ کنٹھا دیکھو جیسے کوئی تاج

یہ راجہ ہیں پر نہیں پیتے کمزوروں کا خون

یہ نہیں مارت اک دوجے کے خیموں پر شب خون

یہ نہیں لوٹتے اپنی ماؤں اور بہنوں کی لاج

یہ نہیں ڈسنے والے ان پر ڈال کے ہاتھ دیکھو

خوش قسمت ہو اور تمھارے اچھے ہیں حالات

تم انسان گزیدہ ہو کر سمجھو گے یہ بات

انسانوں کا ساتھ برا ہے یا سانپوں کا ساتھ


صہبا اختر

No comments:

Post a Comment