زندگی یوں بھی تِرے در سے اٹھائے گئے ہم
ایک افسانہ ہوئے،۔ اور بُھلائے گئے ہم
قصۂ شوق تھے اوروں کو سنائے گئے ہم
نغمۂ درد تھے ہر بزم میں گائے گئے ہم
اپنے اندر کی تپش نے ہمیں بجھنے نہ دیا
جل اٹھے اور بھی جس وقت بجھائے گئے ہم
اس کی جانب کوئی رستہ بھی نہیں جا سکتا
ایک بے نام سے بستی میں بسائے گئے ہم
کرچیاں پھیل گئیں اس کی گلی تک، اپنی
اس قدر زور سے پتھر پہ گرائے گئے ہم
اپنی قسمت میں کناروں نے کہاں ہونا تھا
کوئی موسیٰ تو نہیں تھے کہ بہائے گئے ہم
شہر کا شہر ہمیں ڈھونڈ رہا ہے، ثاقب
تجھ سے بچھڑے تو کہیں اور نہ پائے گئے ہم
عباس ثاقب
No comments:
Post a Comment