کسی کی تم دلآزاری نہ کرنا
محبت میں اداکاری نہ کرنا
مِری فطرت وفا پر جان دینا
تِرا شیوہ وفاداری نہ کرنا
اگر اندر ہی اندر مر چکے ہو
تو جینے کی اداکاری نہ کرنا
نبھانے کے لیے ہوتے نہیں یہ
کوئی وعدہ بھی سرکاری نہ کرنا
فقیروں کی حکومت ہے دلوں پر
کبھی ہم پر تو سرداری نہ کرنا
انوار انصاری
No comments:
Post a Comment