میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھا
مگر یہ ہجر مرے حوصلے سے بڑھ کر تھا
شریکِ سازشِ شب بام و در بھی تھے، ورنہ
ہوا کا زور کہاں اس دِیے سے بڑھ کر تھا
سفر میں ہاتھ جھٹکنا تِرے لیے نہ سہی
مِرے لیے تو کسی سانحے سے بڑھ کر تھا
میں اپنے آپ سے بڑھ کر وہاں دکھائی دیا
عجیب شخص تھا جو آئینے سے بڑھ کر تھا
نہ موجِ درد کی طغیانیاں تھمیں ثاقب
نہ آسرا کوئی کچے گھڑے سے بڑھ کر تھا
عباس ثاقب
No comments:
Post a Comment