میری ہر بات پہ جب کہتے ہو، شاید، لیکن
کچھ نہ کہنے کے سبب کہتے ہو، شاید، لیکن
اب میں اندازِ تخاطب کو تمہارے سمجھا
مجھ سے اکتاتے ہو، تب کہتے ہو، شاید لیکن
صاف بے زاری کا اظہار نظر آتا ہے
گفتگو ساری میں جب کہتے ہو، شاید، لیکن
تم تو ہر شرط پہ تھے ساتھ نبھانے والے
کیا ہوا تم کو کہ اب کہتے ہو، شاید، لیکن
بے یقینی کی بھی اک حد ہوا کرتی ہے نشاط
گر کہوں سنتا ہے رب، کہتے ہو شاید، لیکن
نشاط عبیر
No comments:
Post a Comment