میرا وجود جلنے لگا ماہتاب سے
کچھ اور پیاس بڑھ گئی پانی کے خواب سے
اے زندگی! اے گائیکہ، یہ شام تو کٹے
کوئی غزل سُنا مجھے میری کتاب سے
اب خود وہ میری شاعری پڑھتا ہے روز و شب
جس نے مجھے نکال دیا دل کے باب سے
بارش ہوئی تو صحن بھی پانی سے بھر گیا
اور چاند دیکھنے لگا اِک سطحِ آب سے
یُونس یہی ہے دُکھ مجھے ہوتی جو آج ماں
ہوتی بہت ہی خوش وہ مِرے انتخاب سے
یونس امین
No comments:
Post a Comment