Saturday, 8 October 2022

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

 تنہائی کے بعد


جھانکتا ہے تِری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

تیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس

تیرے سینے میں رہا شورِ بہاراں کا خروش

اب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس

تُو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائے

پھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس

تیرے چہرے پہ سکوں کھیل رہا ہے، لیکن

تیرے سینے میں تو طوفان گرجتے ہوں گے

بزم کونین تِری آنکھ میں ویران سہی

تِرے خوابوں کے محلات تو سمجھے ہوں گے

گرچہ اب کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

پھر بھی آہٹ پہ تِرے کان تو بجتے ہوں گے

وقت ہے ناگ تِرے جسم کو ڈستا ہو گا

یخ کر تجھ کو ہوائیں بھی بپھرتی ہوں گی

سب تِرے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گے

تجھ سے ہمجولیاں کترا کے گزرتی ہوں گی

کتنی یادیں تِرے اشکوں سے ابھرتی ہوں گی

زندگی ہر نئے انداز کو اپناتی ہے

یہ فریب اپنے لیے جال نئے بُنتا ہے

رقص کرتی ہے تِرے ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی

اور جی کو کوئی روح کی طرح دُھنتا ہے

لاکھ پردوں میں چُھپا شورِ اذیت، لیکن

دل تِرے دل کے دھڑکنے کی صدا سنتا ہے

تیرا غم جاگتا ہے دل کے نہاں خانوں میں

تیری آواز سے سینے میں فُغاں پیدا ہے

تیری آنکھوں کی اداسی مجھے کرتی ہے اداس

تیری تنہائی کے احساس سے دل تنہا ہے

جاگتی تو ہے تو تھک جاتی ہے آنکھیں میری

زخم جلتے ہیں تِرے، درد مجھے ہوتا ہے


شہزاد احمد

No comments:

Post a Comment