باتوں باتوں میں یہاں رات بھی ہو سکتی ہے
رقص کرتے ہوئے برسات بھی ہو سکتی ہے
یہ الگ بات کہ ہم ایک نہیں ہو سکتے
یہ الگ بات الگ بات ہی ہو سکتی ہے
اے مرے وعدہ فراموش تجھے دھیان رہے
بعد مرنے کے ملاقات بھی ہو سکتی ہے
ہم کو منظور کہ ہم دشت نشیں ہیں مرے دوست
اس چمن میں گزر اوقات بھی ہو سکتی ہے
اس لیے گھر کو بدلنا ہی ضروری سمجھا
یار لوگوں کی یہاں گھات بھی ہو سکتی ہے
ندیم ملک
No comments:
Post a Comment