زندگی سے خالی لوگ
کھڑکی سے دور
اس پار
بادلوں سے بھی آگے
سمندر کے درمیان میں کہیں
بالکل نہیں
بھاگتی دوڑتی چیخوں کے
شور شرابے میں
بھیگتے ہوئے شہر کی نشیلی راتوں میں
زندہ مجسموں کے آس پاس کہیں
وہ بالکل نہیں
رواں دواں سڑک پہ سرخ اشارے کی طرح
خواہشوں کے مینار کی تعمیر
جذبوں کی توسیع سے خالی
پارک کے کسی گمنام گوشے میں
چنار کے درخت کی صورت
خود ساختہ سائے کی چھاؤں میں
سسکتے، تڑپتے
اکیلے پن کی بے ریا مسافتوں کے گیت گاتے
محرومیوں سے لتھڑے ہوئے لوگ
مجھ سے مل کر بغلگیر ہوتے ہیں
میں جو صدیوں کی
رازوں بھری تاریخ کا
بوجھ اٹھائے ہوئے ان سے ملتا ہوں
تو رو پڑتا ہوں
امجد بابر
No comments:
Post a Comment