Saturday, 12 December 2020

زندگی سے خالی لوگ

 زندگی سے خالی لوگ

کھڑکی سے دور

اس پار

بادلوں سے بھی آگے

سمندر کے درمیان میں کہیں

بالکل نہیں

بھاگتی دوڑتی چیخوں کے

شور شرابے میں

بھیگتے ہوئے شہر کی نشیلی راتوں میں

زندہ مجسموں کے آس پاس کہیں

وہ بالکل نہیں

رواں دواں سڑک پہ سرخ اشارے کی طرح

خواہشوں کے مینار کی تعمیر

جذبوں کی توسیع سے خالی

پارک کے کسی گمنام گوشے میں

چنار کے درخت کی صورت

خود ساختہ سائے کی چھاؤں میں

سسکتے، تڑپتے

اکیلے پن کی بے ریا مسافتوں کے گیت گاتے

محرومیوں سے لتھڑے ہوئے لوگ

مجھ سے مل کر بغلگیر ہوتے ہیں

میں جو صدیوں کی

رازوں بھری تاریخ کا

بوجھ اٹھائے ہوئے ان سے ملتا ہوں

تو رو پڑتا ہوں


امجد بابر​

No comments:

Post a Comment