موجِ صبا کو گیت سنانے کا وقت ہے
اے دوست روشنی کو بلانے کا وقت ہے
یہ وقت اپنا آپ چھپانے کا وقت ہے
یعنی گُل و بہار بھلانے کا وقت ہے
حاکم درودِ پاک سنانے کا وقت ہے
محشر بپا ہے آپ کے آنے کا وقت ہے
تاروں میں روشنی ہے نظاروں میں تیرگی
سو اس لیے یقین گھمانے کا وقت ہے
یہ وقت کٹ رہا ہے مصیبت میں اے ندیم
اب اس لیے بھی وقت بچانے کا وقت ہے
ندیم ملک
No comments:
Post a Comment