Monday, 16 August 2021

لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیا

 لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیا

جیسے کہ پھول شاخ سے ٹوٹا بکھر گیا 

کل چھانوْ مل سکے گی سبھی کو یہ سوچ کر 

جس نے لگائے پیڑ وہ بوڑھا کدھر گیا 

جو پتھروں کے بدلے میں دیتا تھا پھل مجھے

دورِ خزاں! بتا تو کہاں وہ شجر گیا

قائم ہے دل میں آج بھی اڑنے کا حوصلہ

صیاد وقت لاکھ مِرے پر کتر گیا

دھڑکن سنائی دیتی تھی ہر ایک لفظ میں 

کیا جانے شاعری سے کہاں وہ ہنر گیا 


چندر واحد

No comments:

Post a Comment