کبھی تو میری بھی تشنہ لبی کی بات چلے
میں زندہ ہوں تو مِری زندگی کی بات چلے
جو میری آنکھ میں آنسو ہیں ان کو رہنے دو
ابھی تو اس کے لبوں کی ہنسی کی بات چلے
کوئی تو ہو کہ جسے کہہ سکیں کہ زندہ ہے
حیات و موت کی اور آدمی کی بات چلے
تمام رات اندھیرا تھا میری مٹھی میں
جو دن کے پاس ہے اس روشنی کی بات چلے
نہیں نہیں مِرے حسنِ نظر کی بات نہیں
جو اِذن ہو تو تِری دل کشی کی بات چلے
بس ایک لمحہ نہ ہم زیر کر سکے افضل
جو درمیان تھی اس دوستی کی بات چلے
افضل سراج
No comments:
Post a Comment