ہم تلخئ حیات کو آساں نہ کر سکے
صحرائی زندگی کو گلستاں نہ کر سکے
کچھ یوں چلی تھی بادِ حوادث کہ عمر بھر
قندیل آرزو کو فروزاں نہ کر سکے
آلام عاشقی نے کیا خود سے بے خبر
ہم تذکرۂ سختئ دوراں نہ کر سکے
ایسا چبھا ہے نشترِ بے دادِ آرزو
ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے
تھا زعم جن کو اپنی مسیحائی کا یہاں
وہ بھی علاجِ سوزشِ پنہاں نہ کر سکے
مظفر احمد
No comments:
Post a Comment