Saturday, 9 January 2021

آندھی میں بھی چراغ مگن ہے صبا کے ساتھ

 آندھی میں بھی چراغ مگن ہے صبا کے ساتھ

لگتا ہے ساز باز ہوئی ہے ہوا کے ساتھ

لب پر خدا کا نام ہو دل میں وطن کا درد

نکلے بدن سے روح مِری اس ادا کے ساتھ

ان کو بہت غرور تھا اپنی جفاؤں پر

ہم بھی وہیں اڑے رہے اپنی وفا کے ساتھ

نظریں جھکا کے سامنے میرے کھڑا ہے وو

شرمندگی کی اپنے بدن پر قبا کے ساتھ

ہر شخص رشک کرتا ہے پھر ایسی ذات پر

مر کر بھی جس کے ربط ہو قائم خدا کے ساتھ

آغاز بھی اسی کی زیارت کے ساتھ ہو

ہو بھی سفر تمام تو ماں کی دعا کے ساتھ

احسان تھا یا حکم کی تعمیل تھی سبین؟

ہم بھی قدم قدم چلے اس کی رضا کے ساتھ


غوثیہ سبین

No comments:

Post a Comment