Wednesday, 3 May 2023

دل کی موجوں کی تڑپ میری صدا میں آئے

  دل کی موجوں کی تڑپ میری صدا میں آئے

دائرے کرب کے پھیلے تو ہوا میں آئے

میرے ہاتھوں ہی نے آئینہ دکھایا تھا مجھے

کتنے مشکل تھے تقاضے جو دعا میں آئے

ہم غریبی میں بھی معیارِ سفر رکھتے ہیں

گرتے پڑتے ہی سہی، اپنی انا میں آئے

ان سے ہم شعر کی تاثیر بڑھا لیتے ہیں

کیسے لہجے تِرے آنچل کی ہوا میں آئے

وہ تو پہچان کی موہوم نظر رکھتا ہے

ہم یوں ہی سامنے زخموں کی قبا میں آئے

آخری شعر کی منزل بھی کڑی ہے ثاقب

سوچ کے کتنے سفر ذہنِ رسا میں آئے


آصف ثاقب

No comments:

Post a Comment