میں ہوں لمحوں کو کسوٹی پہ پرکھنے والا
وقت ہو سونے کا پانی تو مجھے خط لکھنا
بن کے آ جاؤں گا پنکھے کا حسیں شہزادہ
سننا پریوں کی کہانی تو مجھے خط لکھنا
کبھی وعدے کا حسیں پھول دیا تھا تم نے
یاد آئے وہ نشانی تو مجھے خط لکھنا
پھول کے زخموں کی تصویر تمہیں بھیجوں گا
کبھی موسم جو ہو دھانی تو مجھے خط لکھنا
مطرب نظامی
No comments:
Post a Comment