شرط الفت ہے کہ ہر ناز اٹھایا جائے
لب پہ اک حرف شکایت بھی نہ لایا جائے
آج تک جس نے ہر اک گل کی حفاظت کی ہے
کیوں اسی خار سے دامن کو بچایا جائے
شدت رنج و الم سے نکل آئیں آنسو
کسی مجبور کو اتنا نہ ستایا جائے
فائدہ کیا ہے بھلا عشق کی رسوائی سے
کیوں یہ افسانہ زمانے کو سنایا جائے
جمال نقوی
No comments:
Post a Comment