Wednesday, 3 May 2023

شرط الفت ہے کہ ہر ناز اٹھایا جائے

 شرط الفت ہے کہ ہر ناز اٹھایا جائے

لب پہ اک حرف شکایت بھی نہ لایا جائے

آج تک جس نے ہر اک گل کی حفاظت کی ہے

کیوں اسی خار سے دامن کو بچایا جائے

شدت رنج و الم سے نکل آئیں آنسو

کسی مجبور کو اتنا نہ ستایا جائے

فائدہ کیا ہے بھلا عشق کی رسوائی سے

کیوں یہ افسانہ زمانے کو سنایا جائے


جمال نقوی

No comments:

Post a Comment