افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ
دنیا بدل گئی غم پنہاں کے ساتھ ساتھ
بیتابئ حیات میں آسودگی بھی تھی
کچھ تیرا غم بھی تھا غم دوراں کے ساتھ ساتھ
اب میرے ساتھ ان کی نظر بھی ہے بے قرار
نشتر تڑپ رہے ہیں رگِ جاں کے ساتھ ساتھ
اب امتیازِ ظاہر و باطن بھی مٹ گیا
دل چاک ہو رہا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ
نیرنگیٔ جہانِ طلب دیکھنا عظیم
بڑھتا ہے شوق تنگئ داماں کے ساتھ ساتھ
عظیم مرتضیٰ
No comments:
Post a Comment