Monday, 19 July 2021

درد بڑھ جائے تو یادوں کی دوا لیتا ہے

 درد بڑھ جائے تو یادوں کی دوا لیتا ہے

ماں کے آنچل سے وہ جنت کی ہوا لیتا ہے

یہ تیرا عشق نہیں ہے نظر کا دھوکا ہے

عشق تو نار کو گلزار بنا لیتا ہے

ہائے وہ شخص بلا کا طریر ہے صاحب

روٹھ جاتا ہوں تو سینے سے لگا لیتا ہے

یہ جو غربت میں اداسی کا سبب ہے، مت پوچھ

مجھ سے چھوٹا بھی مجھے چار سنا لیتا ہے

بات کردار کی کرتا ہی نہیں ہے کوئی

لوگ کہتے ہیں؛ بتا کتنا کما لیتا ہے؟

میرے پُرکھوں کا لگایا ہوا یہ پیڑ منیر

میرے بچوں کو بھی سائے میں بیٹھا لیتا ہے


منیر انجم

No comments:

Post a Comment