درد بڑھ جائے تو یادوں کی دوا لیتا ہے
ماں کے آنچل سے وہ جنت کی ہوا لیتا ہے
یہ تیرا عشق نہیں ہے نظر کا دھوکا ہے
عشق تو نار کو گلزار بنا لیتا ہے
ہائے وہ شخص بلا کا طریر ہے صاحب
روٹھ جاتا ہوں تو سینے سے لگا لیتا ہے
یہ جو غربت میں اداسی کا سبب ہے، مت پوچھ
مجھ سے چھوٹا بھی مجھے چار سنا لیتا ہے
بات کردار کی کرتا ہی نہیں ہے کوئی
لوگ کہتے ہیں؛ بتا کتنا کما لیتا ہے؟
میرے پُرکھوں کا لگایا ہوا یہ پیڑ منیر
میرے بچوں کو بھی سائے میں بیٹھا لیتا ہے
منیر انجم
No comments:
Post a Comment