تُو نے صورت دکھائی کافی ہے
آگ دل کی بجھائی، کافی ہے
میرے ملبے سے کچھ نہیں ملنا
یار! اتنی کھدائی کافی ہے
اس سے آگے نہ پوچھنا مجھ سے
بات جتنی بتائی، کافی ہے
جس سے خوشیاں خرید لوں تیری
مجھ کو اتنی کمائی کافی ہے
آدھے گھنٹے سے تُو نہیں بولا
دیکھ، اتنی لڑائی کافی ہے
اس کی بانہوں کا سوچ لیتا ہوں
مجھ کو اتنی رسائی کافی ہے
جس سے خوشیاں خرید لوں تیری
مجھ کو اتنی کمائی کافی ہے
میرے اندر سے کوئی کہتا تھا؛
انجم! اتنی دُہائی کافی ہے
منیر انجم
No comments:
Post a Comment