وہ جو نکلا ہے تِری بزم سے، گھر جائے گا
کوئی گھر دل کا نہیں ہے، وہ کدھر جائے گا
ساری مستی ہے تِرے دم سے مئے ہستی میں
اب تِرے ساتھ شرابوں کا اثر جائے گا
راہِ دریا سے چٹانیں بھی پرے ہٹتی ہیں
راستہ پاؤں تلے، آپ سنور جائے گا
آتشِ شوق بڑھا، جِس میں یہ دل کا کُندن
جس قدر پِگھلے گا، اتنا ہی نکھر جائے گا
برگِ آوارہ ہیں یاراں، کہ ہوا آئے تو
جائے گا کوئی اِدھر، کوئی اُدھر جائے گا
بزمِ یاراں ہے پروئے ہوئے پھولوں کی طرح
تار ٹُوٹا تو، یہ شیرازہ بِکھر جائے گا
انتخاب عالم
چانگ شی شوان
No comments:
Post a Comment