Tuesday, 7 June 2022

رہے گا عشق ترا خاک میں ملا کے مجھے

 رہے گا عشق تِرا خاک میں ملا کے مجھے

کہ ابتدا میں ہوئے رنج انتہا کے مجھے

دیئے ہیں ہجر میں دکھ درد کس بلا کے مجھے

شبِ فراق نے مارا لٹا لٹا کے مجھے

بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے

یقیں نہ آئے تو وہ دیکھ جائیں آ کے مجھے

بلائے عشق تو دشمن کو بھی نصیب نہ ہو

مِرا رقیب بھی رویا گلے لگا کے مجھے

کہا یہ دل نے؛ چلو آج کوئے قاتل میں

اجل کہاں سے کہاں لے گئی لگا کے مجھے

ہر ایک شخص کو حاصل جدا ہے کیفیت

جفا کے لطف تجھے ہیں، مزے وفا کے مجھے

غضب ہے آہ میری داغ! نام ہے میرا

تمام شہر جلاؤ گے کیا جلا کے مجھے


داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment