ہم کسی اور کے جانی کی طرف جاتے ہیں
پیاس لگتی ہے تو پانی کی طرف جاتے ہیں
دوسری بار محبت ہمیں ہونے لگے تو
بھاگ کے تیری نشانی کی طرف جاتے ہیں
یہ سبھی لوگ تری سمت بڑھے جا رہے ہیں
جبکہ کردار کہانی کی طرف جاتے ہیں
مِنمِناتے ہیں جواں مرد اسے چھونے کے بعد
دیکھ کے بوڑھے جوانی کی طرف جاتے ہیں
یہ محبت بھی کسی نوکری کے جیسی ہے
نئی جائے تو پرانی کی طرف جاتے ہیں
شہباز مہتر
No comments:
Post a Comment