بچ کر چلے ہیں راہ میں ہر نقشِ پا سے ہم
آگے رہے ہیں چار قدم رہنما سے ہم
سائے کی بھیک دھوپ سے مانگیں تو کس لیے
کیوں لیں وفا کا عہد کسی بے وفا سے ہم
اک مستقل سکوت ہے دل سے زبان تک
محروم ہو گئے ہیں اب اپنی صدا سے ہم
جرمِ وفا کِیا ہے، کریں گے ہزار بار
ڈرتے نہیں جہاں کی کسی بھی سزا سے ہم
بکھرے ہوئے چراغ سے لیتے ہیں روشنی
بڑھتے ہیں ابتداء کی طرف انتہا سے ہم
مضطر اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment