Wednesday, 3 March 2021

زرا جلدی کر میرے پیر سائیں وہ ہاتھ چھڑانے والا ہے

 زرا جلدی کر میرے پیر سائیں

وہ ہاتھ چھڑانے والا ہے

مجھے چھوڑ کے جانے والا ہے

کوئی انتر منتر پھونک ابھی

مجھے دے کچھ گھول کے پانی میں

کوئی جادو ٹونہ کر سائیں

کوئی دے تعویز محبت کا

کچھ ایسے کر کچھ ویسے کر

کوئی چِلہ وِلہ کاٹ سائیں

کچھ کر تُو جیسے تیسے کر

اب میری خوشیاں ہاتھ تیرے

کوئی اور اسے نہ لے جائے

وہ ایک اکیلا جگ میں ہے

میں جان و دل ہوں وار چکی

وہ جیت چکا، سب جیت چکا

اور میں کہ خود کو ہار چکی

سائیں دیکھ میں پہلے تنہا ہوں

اور چھوڑ کے وہ بھی چل نکلے

میری مشکل کا نہ حل نکلے

یہ بات میں سہہ نہ پاؤں گی

میں جیتے جی میں مر جاؤں گی


نامعلوم

No comments:

Post a Comment