Tuesday, 22 March 2022

جب دوست بچھڑتے ہیں پیڑ کی جڑیں زنگ پکڑتی ہیں

جب دوست بچھڑتے ہیں


پیڑ کی جڑیں زنگ پکڑتی ہیں

آسمان بارود اُگلتا ہے

شکاری فلک شگاف قہقہہ لگاتا ہے

اور پرندے کارتوس کی بُو پا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں

وزیر بادشاہ کا قتل کر دیتا ہے

شہزادہ سلیمانی چادر اوڑھ کر غائب ہو جاتا ہے

شہزادی اپنی آنکھیں نکال کر سُرخ تھال میں رکھ دیتی ہے

اور وفادار ہرن کے سینگ پگھل کر گِر جاتے ہیں

اندھیرا بڑھتا ہے تو دل گبھراتا ہے

وحشت لپک کر کلیجے میں اُتر آتی ہے

خواب بوڑھے اور نحیف ہو جاتے ہیں

آرزوئیں بِلکنے لگتی ہیں

جب دوست بچھڑتے ہیں

اُداسی کا دُھواں پھیلتا ہے

سوچ مفلوج ہو جاتی ہے

اور سانس کی ڈور کٹ جاتی ہے


ثمر علی

ثمر محمد علی

No comments:

Post a Comment