Tuesday, 22 March 2022

گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا

 ایک خواب


گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا

کھلا اپنے گھر کا ہر ایک باب دیکھا

خوابوں میں ہی کھل گئی نیند میری

بغل میں کھڑا ایک ماہتاب دیکھا

منور بہت تھا بہت ہی کشش تھی

عجب اس میں رنگت عجب تاب دیکھا

پھر کھلی آنکھ میری تو کچھ بھی نہیں تھا

میں تنہا تھا لیکن میں تنہا نہیں تھا

تصور میں تھا پر تھا ساتھ اس کا

رکھا تھا کبھی نام ماہتاب جس کا

خوابوں خیالوں سے باہر تو آؤ

چلی آؤ جاناں! چلی اب تو آؤ


توقیر احمد

No comments:

Post a Comment