Monday, 3 October 2022

تم نے چھتری کاٹ کر ایک چھوٹی سی پتنگ بنائی

 پتنگ


تم نے چھتری کاٹ کر ایک چھوٹی سی پتنگ بنائی

اور پھر اسے بڑے آسمان پر اڑانے لگے

آسمان جو پہلے بادلوں سے بھرا تھا

اب رنگ برنگی پتنگوں کے مقابل تھا

جب پتنگیں پینترا بدل کر شکنجہ کَستیں

 اور آپس میں گتھم گتھا ہونے لگتیں

تمہارے جسم میں خوف کی ایک لہر اترتی 

کیونکہ تمہیں ہمیشہ ہارنے کی عادت تھی

ہار کا زیادہ دکھ تب ہوتا ہے

جب لوگ آپ کو دیکھ رہے ہوں

لیکن اب صرف لوگ ہی نہیں

تمہیں آسمان بھی دیکھ رہا تھا

تم نے کھیل جاری رکھا

ڈور کی کمان کھینچی

ترازو پر تولا

یہ پیچہ، وہ پیچہ کا شور بلند ہوا

سبھی اپنے داؤ پیچ آزماتے رہے

پتنگوں سے پتنگیں اُلجھتی رہیں

اور پھر تمہاری ڈور کٹ گئی

آسمان بے رحم تھا

اگر چاہتا تو سیٹی بجاتا 

اور بادل اپنے پَر لہراتے سٹپٹاتے، دوڑتے آتے

اور مینہ برسنے لگتا

لیکن آسمان کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے

جب تمہارے ہی دل میں چاہت نہیں

جس لڑکی کی چھتری کاٹ کر تم نے پتنگ بنائی

اس کا دل بھی ڈور کی طرح کٹ گیا تھا


ثمر علی

ثمر محمد علی

No comments:

Post a Comment