رعنائیاں تمام ہوئیں، پیرہن تمام
اب اور کیا ہو گا بھلا نقشِ بدن تمام
آخر میں اس جنون کا انجام یہ ہوا
تارِ ہوس کی ہو گئی اک اک شِکن تمام
یہ شاعری تو روز بدلتی ہے اپنے رُوپ
جب سے ہوئے ہیں دوستو! آدابِ فن تمام
اندھی رقابتوں کا تماشا بھی دیکھ لیں
باقی ہے جوش ہوا جوشِ وطن تمام
اچھی ہے عہدِ نو کی یہ تجدید گفتگو
آداب لکھ کے کر دیا خط کا متن تمام
ثاقب! نے یہ سُنا تو بصد حیف اٹھ گیا
چلیے، جناب! ہو گئی بزمِ سخن تمام
احسان ثاقب
No comments:
Post a Comment