Sunday, 21 November 2021

تمہارا غم منایا جا رہا ہے

 تمہارا غم منایا جا رہا ہے

جگر کا خوں جلایا جا رہا ہے

پریشاں ہے امیرِ شہر اب کیوں

اسے شیشہ دکھایا جا رہا ہے

تماشہ خوب ہے دیکھو وہاں پر

طوائف کو ستایا جا رہا ہے

میں ان دانشوروں سے پوچھتا ہوں

زمیں کو کیوں گھمایا جا رہا ہے

اُگلنا ہے مجھے بھی زہر سنقر

یہ جو شربت پلایا جا رہا ہے


سنقر سامی

No comments:

Post a Comment