تمہارا غم منایا جا رہا ہے
جگر کا خوں جلایا جا رہا ہے
پریشاں ہے امیرِ شہر اب کیوں
اسے شیشہ دکھایا جا رہا ہے
تماشہ خوب ہے دیکھو وہاں پر
طوائف کو ستایا جا رہا ہے
میں ان دانشوروں سے پوچھتا ہوں
زمیں کو کیوں گھمایا جا رہا ہے
اُگلنا ہے مجھے بھی زہر سنقر
یہ جو شربت پلایا جا رہا ہے
سنقر سامی
No comments:
Post a Comment