جو بھائی تھے آپس میں وہ بٹ گئے
تصور کے اوراق بھی پھٹ گئے
نئے بیل بوٹے اُگائے گئے
ثمر دینے والے شجر کٹ گئے
خیالوں کی ترسیل ہو یا نہ ہو
فعولن فعولن سبھی رٹ گئے
سکوں مل گیا ہے انہیں گاؤں میں
نگر سے پرندوں کے جھرمٹ گئے
تھا مشکیزہ حارث مِرے ہاتھ میں
اٹھا کر گھڑا جب وہ پنگھٹ گئے
حارث انعام
No comments:
Post a Comment