یہ کون کہتا ہے ہم کو؛ بے در پڑے ہوئے ہیں
فقیر بن کے تِرے سرِ در پڑے ہوئے ہیں
ہماری نیندیں چلی گئی ہے کہیں بہت دور
ہمارے اوپر ہمارے بستر پڑے ہوئے ہیں
تمہیں یہ چہرہ تمام تر تو نہیں دِکھے گا
ہم اپنے باطن سے کچھ ہی باہر پڑے ہوئے ہیں
پڑے ہوئے ہیں تمہاری دہلیز پر، مگر ہم
یہ سوچتے ہیں کہ ایسے کیونکر پڑے ہوئے ہیں
سنقر سامی
No comments:
Post a Comment