سو زخم لیے سینے پہ تیار کھڑے ہیں
آ، دیکھ کہ ہم لوگ سرِ دار کھڑے ہیں
معلوم کرو کس نے ہے مقتل کو سجایا
پھر جان لٹانے کو مِرے یار کھڑے ہیں
دشمن نے سمجھ رکھا ہے بے جان اگرچہ
ہم لوگ یہاں زندہ و بیدار کھڑے ہیں
سینچےتھے اخوت سے کبھی ملک میں ہم نے
اشجار وہی سارے ثمربار کھڑے ہیں
تم صاف نظر آئے یہ اچھا ہواـ لیکن
کچھ لوگ ابھی تک پسِ دیوار کھڑے ہیں
سینے میں اگن ہے نہ کوئی آہ وفغاں ہے
خاموش یہاں سارے عزادار کھڑے ہیں
پلکوں پہ ندامت کا یوں دربار سجاے
معلوم تو ہو کس واسطے غمخوار کھڑے ہیں
علیم اسرار
No comments:
Post a Comment