Thursday, 16 September 2021

جس طرح خواب کی ترسیل نہیں ہو سکتی

 جس طرح خواب کی ترسیل نہیں ہو سکتی

اس طرح آپ کی تمثیل نہیں ہو سکتی

مرتبہ ان کا بہت خاص ہے لیکن مجھ سے

ان کے ہر حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی

میں تِرے غم سے پگھل کے ہوا پانی ورنہ

آگ پانی میں تو تحلیل نہیں ہو سکتی

میں کہانی کو نئے موڑ پہ لا سکتا ہوں

پر کہانی کبھی تبدیل  نہیں ہو سکتی

یہ ہمہ وقت دھنک ہی سی مجھے لگتی ہے

سات رنگوں کی تو قندیل نہیں ہو سکتی


سنقر سامی

No comments:

Post a Comment