جس طرح خواب کی ترسیل نہیں ہو سکتی
اس طرح آپ کی تمثیل نہیں ہو سکتی
مرتبہ ان کا بہت خاص ہے لیکن مجھ سے
ان کے ہر حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی
میں تِرے غم سے پگھل کے ہوا پانی ورنہ
آگ پانی میں تو تحلیل نہیں ہو سکتی
میں کہانی کو نئے موڑ پہ لا سکتا ہوں
پر کہانی کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی
یہ ہمہ وقت دھنک ہی سی مجھے لگتی ہے
سات رنگوں کی تو قندیل نہیں ہو سکتی
سنقر سامی
No comments:
Post a Comment