عشق میں ہوتا ہے کیا سود و زیاں سمجھو گے
خیر رہنے دو بھلا تم یہ کہاں سمجھو گے
اہلِ دل،۔ اہلِ نظر،۔ اہلِ ہنر لگتے ہو
تم یقیناً مِرا اندازِ بیاں سمجھو گے
کس طرح بولو نبھا پاوَ گے اس رشتے کو
اس تعلق کو اگر بارِ گراں سمجھو گے
زندگانی میں کبھی ایسا بھی وقت آئے گا
کاوشِ زیست کو تم کارِ زیاں سمجھو گے
عمر بھر ڈھونڈ نہیں پاوَ گے پھر راہِ فرار
ایک زنداں کو اگر دارِ اماں سمجھو گے
جھوٹ اور سچ میں کبھی فرق نہ کر پاوَ گے
تم حقیقت کو اگر یونہی گماں سمجھو گے
عذرا ناز
No comments:
Post a Comment