ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لیے
ہم تِرے شہر میں آئے ہیں محبت کے لیے
وہ بھی آخر تِری تعریف میں ہی خرچ ہوا
میں نے جو وقت نکالا تھا شکایت کے لیے
میں ستارہ ہوں، مگر تیز نہیں چمکوں گا
دیکھنے والے کی آنکھوں کی سہولت کے لیے
تم کو بتلاؤں کہ دن بھر وہ مِرے ساتھ رہا
ہاں وہی شخص جو مشہور ہے عجلت کے لیے
سر جھکائے ہوئے خاموش جو تم بیٹھے ہو
اتنا کافی ہے مِرے دوست ندامت کے لیے
وہ بھی دن آئے کہ دہلیز پہ آ کر اظہر
پاؤں رکتے ہیں مِرے تیری اجازت کے لیے
اظہر نواز
No comments:
Post a Comment