وبا کے بعد محبت
ٹلیں گے وبا کے یہ دن تو، محبت
نئے پیرہن اور نئی شکل میں آئے گی
ابھی تو بدن پر وبا سے بچاؤ کے ریپر چڑھے ہیں
بدن کو بدن کی تپش ہی میسر نہیں ہے
لبوں کو لبوں کی حلاوت کو چکھنے کا موقعہ نہیں مل رہا ہے
رکاوٹ لبوں پر کھڑی ہو چکی ماسک کی
سوتوان چہروں کے لب بن گئے ہیں دفینے
دفن یوں ہوئے لب کہ جیسے پرانی شرابیں دفن کی گئی ہوں
نشے میں اضافے کی خاطر
اگرچہ یہ ماسک چند ملی میٹر ہی موٹے ہیں، لیکن
ہمیں لے گئے صدیوں پیچھے
محبت کے دشمن زمانے، کہ جس میں
محبت کے مجرم پہ نقلی وبا کو مسلط کیا جاتا تھا
مگر فکر کی بات نئیں ہے مِری جاں
وبا گزرے گی تو محبت کے سب زاویے ہی بدل جائیں گے
وبا ڈھل گئی تو تمہارے لبوں کے دفینے کو میں کھینچ لاؤں گا باہر
تجھے بھی پتا ہے پرانی شرابوں میں ہوتا ہے اک دلنشیں ذائقہ، سو
وہی ذائقہ چکھنے کو میں تمہارے لبوں کی پرانی شرابوں میں کھو جاؤں گا
نئے جام کے گھونٹ بھرتا چلا جاؤں گا
پتا ہے تجھے
یہ کہنا ہے قدرت کا؛ بعد از وبا
زمیں کی کئی چیزوں میں دلکشی بڑھ جائے گی
سو امکان اس بات کا بھی ہے کہ
وباؤں سے بچنے کے ریپر میں ملبوس اجسام پر اک نئی زندگی چھائے گی
اور وہ نئی زندگی لذتوں اور رونق سے بھرپور ہو گی
سو ہم بھی انہیں لذتوں کو کمانے کی خاطر تمہارے بدن سے
وبا سے بچاؤ کے ریپر اتاریں گے اور پھر
نئی زندگی کی حلاوت کی تاثیر روح میں اترنے لگے گی
محبت زمانے میں دوبارہ پھرنے لگے گی
عبید ثاقب
No comments:
Post a Comment