موم میں اس نے کیا تبدیل میری ذات کو
دھیرے دھیرے پھر کیا قندیل میری ذات کو
میں ادھوری سی کہانی ہوں ابھی راوی تِری
کب ملے گی لذتِ تکمیل میری ذات کو
میں سبب بنتی رہی توقیر کی تیری مگر
تُو کہہ رہا ہے باعثِ تذلیل میری ذات کو
ریزہ ریزہ ہو چکی ہوں وادئ تنہائی میں
وصل کے دریا میں کر تحلیل میری ذات کو
سو گئی میری محبت ہجر کی آغوش میں
کر دی اس نے زینتِ تحویل میری ذات کو
جس کے ہونٹوں پر کبھی آتا نہیں تھا نام تک
شعر میں کرتا ہے وہ تبدیل میری ذات کو
زارا قاسمی
No comments:
Post a Comment