Thursday, 16 September 2021

موم میں اس نے کیا تبدیل میری ذات کو

 موم میں اس نے کیا تبدیل میری ذات کو

دھیرے دھیرے پھر کیا قندیل میری ذات کو

میں ادھوری سی کہانی ہوں ابھی راوی تِری

کب ملے گی لذتِ تکمیل میری ذات کو

میں سبب بنتی رہی توقیر کی تیری مگر

تُو کہہ رہا ہے باعثِ تذلیل میری ذات کو

ریزہ ریزہ ہو چکی ہوں وادئ تنہائی میں

وصل کے دریا میں کر تحلیل میری ذات کو

سو گئی میری محبت ہجر کی آغوش میں

کر دی اس نے زینتِ تحویل میری ذات کو

جس کے ہونٹوں پر کبھی آتا نہیں تھا نام تک

شعر میں کرتا ہے وہ تبدیل میری ذات کو


زارا قاسمی

No comments:

Post a Comment